سچائی کی تنہائی The loneliness of truth
تحریر: سچائی کی تنہائی مصنف: وسیم اکرم گریوال پرانے وقتوں کی بات ہے ایک ریاست کا بادشاہ بہت ذہین اور دانا تھا۔ بادشاہ کو ریاستی امور چلانے کے لئے اپنی ہی طرز کا ایک ذہین اور قابل وزیر مل گیا۔ اس وزیر اور بادشاہ نے مل کر ریاست کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سے کام کیے۔ ریاست میں خوش حالی آنے لگی، بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوا۔ اس ریاست میں ہر کوئی بہت خوش تھا ہر کوئی بادشاہ اور وزیر کی کارکردگی کی تعریف کرتا۔ ایک دفعہ وہاں سے ایک ڈائن کا گزر ہوا۔ ڈائن نے ریاست نے تمام لوگوں کو خوشحال دیکھا تو اس سے یہ بات ہضم نہ ہوئی۔ وہ سوچ میں پڑ گئی کہ وہ اکیلی ناخوش ہے اور اِدھر سب کے سب خوشحال ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ *بزرگوں کا کہنا ہے "جو بندہ خود نہ خوش ہو اس سے دوسروں کی بھی خوشی نہیں دیکھی جاتی"* اس ڈائن نے بھی اس ریاست کی لوگوں کی خوشی چھیننے کا ارادہ کیا۔ وہ رات کے وقت شہر کے اس کنویں کے پاس جا کر بیٹھ گئی جس کنویں سے پورا شہر پانی پینے کے لئے لے کر جاتا تھا۔ ساری رات جادو ٹونے کرکے اس نے پانی میں کوئی ایسی چیز ملا دی کہ جس سے جو بھی اس کنویں کے پانی کو پئے گا وہ پاگل پن کا شکار ہو...