,سوچ کا ایمان ,ذہن ساز | Zahan Saaz Article Think believe

Zahan Saaz
 کالم۔ ذہن ساز
عنوان۔ سوچ کا ایمان
کالم نگار۔ وسیم اکرم گریوال

لاہور نیازی بس سٹاپ پر بس سے اُترا تو سٹرک پر آٹو رکشے جانوروں کے ریوڑ کی طرح کھڑے تھے۔

میری نظر پہلی بار میں ہی پیچھے چائے والے ہوٹل کے سامنے کھڑے رکشے والے پر پڑی اس کا رکشہ کوئی اچھی حالت میں نہیں تھا اور اس کے چہرے پر بھی نیم اداسی چھائی ہوئی تھی دوسرے رکشے والوں کی مانند وہ کسی کے پاس جاکر بھی قائل نہیں کر رہا تھا ایک لمحے کے لیے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ پریشان ہے اس لیے رب کے بھروسے پیچھے کھڑا ہے۔ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا۔

'کلمہ چوک چلو گے؟'

'جی ضرور سر ۔ آجائیں بیٹھیں'

انتہائی پُرجوش انداز میں بولا۔

میں نے دریافت کیاکتنے پیسے لو گے؟

سر اڑھائی سو دے دینا۔

ایک منٹ ضائع کیے بغیر بول پڑا۔

میں نے کہا۔

ابھی کل تو میں تین سو دے کر گیا ہوں۔ آج کیا پیٹرول سستا ہوگیا۔

 حضور کیسی بات کر رہے ہیں میں نے مناسب بتائے ہوسکتا ہے کہ کسی نے آپ کو انجان سمجھ کر زیادہ لے لیے ہوں۔

چہرے پر مسکراہٹ سجائے وضاحت دینے لگا۔

میں نے کہا دیکھو بھئی تین سو میں چلنا ہے تو بات کرو۔

میں یہ بات کر کے اس کے چہرے کر تاثرات دیکھنے لگا۔

''ٹھیک ہے سر بیٹھیں"

اتنا بول کر وہ شاید یہ سوچنے لگا کہ یا تو یہ پاگل ہے یا جنگلوں سے آیا ہے جسے یہ بھی نہیں پتا کہ اڑھائی سو، تین سو سے کم ہوتے ہیں۔

اس نے آٹو رکشہ کا دروازہ میرے لیے خود کھولا۔ میں بیٹھا تو دیکھا دوسری طرف کا دروازہ تھا ہی نہیں۔

اتنی دیر میں وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ 

بھیکےوالے چوک پر ٹریفک سگنلز پر رکشہ رکا تو میں نے دیکھا کہ چند خواجہ سرا سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہیں۔ لیکن باقی گداگروں کے برعکس وہ سج دھج کر بھیک مانگنے آئے ہوئے تھے کیونکہ وہ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر لوگوں کی سوچ کو سمجھ گئے تھے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ بھیک بھی جنسی تسکین کیلئے دیتے ہیں۔

وہ سگنل پر بھیک نہیں مانگ رہے تھے بلکہ چوک کے درمیان میں ایک مائیکرو لیول کا کوٹھا چلا رہے تھے جہاں عام عوام نہیں تماش بین ان کی اداؤں، لباس، بدن، کھُلی زلفوں اور  حُسن کی قیمت کے مطابق انہیں بھیک دیتے،اور اس سے پہلے جبراً لِمس اور غلیظ فقرات سے رقم وصول کی جاتی۔

زیادہ تر خواجہ سرا کاروں کے شیشے کھٹکھٹا کر بھیک مانگ رہے تھے ان میں سے ایک تھوڑا بدصورت اور بھاری جسامت کا حامل خواجہ سرا دیگر خواجہ سراؤں کے پیچھے پیچھے جاتا اسے کوئی منہ نہ لگاتا جب کسی کار پر اس کا بس نا چلا تو اس نے میری طرف رُخ کیا۔

میرے پاس آکر ہاتھ پھیلایا اس نے کیا کہا میں سن نہیں پایا ان بےچاروں کی حالت دیکھ کر میرے اوپر سکتہ طاری تھا۔ میں سگنل کھلنے سے پہلے ان کی فلاح کے لیے کچھ کرنا چاہ رہا تھا میرے پاس 17 سیکنڈ کا قلیل وقت تھا میں جیب سے ایک سو کا کرنسی نوٹ نکالا دائیں ہاتھ سے کرنسی نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور بائیاں ہاتھ شفقت سے اس کے سر پر رکھ دیا۔

ساتھ بالا اختیار میری زبان سے اس کے لیے دعا جاری ہوگئی۔

میں کہا اللہ آپ کو عزت اور سکون کی زندگی عطا فرمائے۔

دعا سنتے ہی خواجہ سرا کی آنکھیں بھر آئیں اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے آگے بڑھا کر بند مٹھیاں کھول دیں اور بولا۔۔

"صاحب جی آپ اپنے پیسے لے لیں باقی بھی لے لیں جو آج آپ نے دے دیا اس سے پہلے کبھی کوئی نہیں دے سکا اس کے بعد ان کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی۔"

میں پھر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔

"خوش رہو میرا بیٹا۔"

اتنے میں بتی سبز ہوگئی۔ اس نے رکشے والے کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ وہ چلا نا پائے۔

اور مجھے مخاطب کرکے بولا۔

"باؤ جی ہزار سال جیئے وہ ماں جِس نے آپ کو جنم دیا۔ حشر کے روز مجھے مالک سے لڑنا بھی پڑا آپ کی بخشش کی خاطر میں لڑ پڑنا۔"

اتنے میں پیچھے سے لوگوں نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ہارن بجانا شروع کر دیئے۔ رکشے والے نے رکشہ چلا لیا۔ 

میں رکشہ کی کھڑکی سے گردن باہر نکال کر دیکھا تو وہ خواجہ سرا ٹریفک کے تیز بہاؤ کے درمیان بہت 

پرسکون انداز میں کھڑا دھیما دھیما مسکرا رہا تھا۔

اسکی مسکراہٹ دیکھ کر میرے دل و دماغ کو عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔

اس وقت میں جس لذتِ حیات سے محظوظ ہورہا تھا اُسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔

رکشہ منزل کی طرف رواں تھا رکشہ ڈرائیور نے خاموشی توڑی اور بولا سر آپ سچ میں بہت اچھے ہیں ورنہ ہمارے معاشرے میں تو ۔۔۔۔۔ اللّٰہ معاف کرے۔

" بھائی جی کیا ہوا ہمارے معاشرے کو؟ الحمدللہ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمیں اللہ نے ایمان کی دولت سے نوازا ہے۔"

میں بول رہا تھا وہ میری باتوں کو غور سے سن رہا تھا کھبی کھبار شیشے میں دیکھ کر میرے ساتھ آئی کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا۔

میری بات مکمل ہونے پر بولا۔

"سر جی درست فرمایا آپ نے اللہ کا جتنا شکرادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا۔ لیکن سر ہماری سوچ کا ایمان ابھی کمزور ہے۔"


میں نے حیرت سے اس کو شیشے میں دیکھا اور پوچھا۔

سوچ کا ایمان۔۔۔۔۔۔۔؟

وہ کیسے؟ بات سمجھ نہیں آئی

سر جی ہم رب کو خالق مانتے ہیں یہ ہمارا ایمان ہے لیکن اس کے تخلیق کردہ انسان کو حقیر سمجھتے ہیں۔ مجھے پندرہ سال ہوگئے رکشہ چلاتے ہوئے میں آج تک آپ سا کوئی انسان نہیں دیکھا جس نے آپ کی طرح خسرے (خواجہ سرا) کے سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹا کہا ہو۔ ایسی سوچ ہی نہیں کسی کی تو پھر یہی لگتا ہے کہ سوچ کہ ایمان ہمیں وراثت میں ملا ہے سوچ میں جگہ نہیں کر پایا۔ 

جس دن سوچ کا ایمان مضبوط ہوگیا اس دن باعمل مسلمان نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ 

آپ کیا سمجھتے ہیں؟"

 تھوڑی دیر کے لئے محسوس ہونے لگا تھا کہ میرے ساتھ کوئی رکشے والا مخاطب نہیں بلکہ کوئی پروفیسر، فلاسفر، بزرگ یا تجریہ کار بات کر رہا ہوں۔

ایک لمبی سانس لینے کے بعد میں نے اس کی بات کا جواب دیا۔

میں کیا سمجھ سکتا ہوں۔ آپ کا تجزیہ تو بہت اچھا ہے آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔

ویسے اگر آپ بُرا نہ محسوس کریں تو اک بات پوچھوں؟

اس نے ساتھ ہی رکشہ اگلے اشارے پر روک دیا اور پیچھے پلٹ کر کہنے لگا۔

"جی سر پوچھیں۔۔۔۔۔"

"بھائی یہ سوچ کا ایمان کیسے مضبوط ہو سکتا ہے؟"

میں نے اس سے دریافت کیا۔

"سوچ کا ایمان تب کامل ہوتا ہے جب آپ کسی کمزور اور مجبور کو دیکھو اور آپ کے دل میں اس کا فائدہ اُٹھانے کا خیال نا آئے بلکہ فائدہ دینے کا خیال آئے۔"

اب میرے پاس کرنے کو کوئی بات نہیں تھی۔ میں باقی سفر خاموش رہا یا شاید کروا دیا گیا۔ منزل پر پہنچ کر رکشہ سے اترتے وقت اس رکشہ ڈرائیور سے میں ایسے ہاتھ ملایا جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد سے مل رہا ہو۔  کیونکہ وہ مجھے زندگی کا وہ  سبق سیکھا گیا تھا جو شاید میں روائیتی تعلیمی نظام سے کبھی نہ سیکھ پاتا۔

مزید اسی طرح کے اچھے اچھے آرٹیکلز کے لئے روزانہ وزٹ کریں اور دوستوں سے شئیر ضرور 

کیجئے گا۔

Zahan Saaz  

 کالم۔ ذہن ساز

عنوان۔ سوچ کا ایمان

کالم نگار۔ وسیم اکرم گریوال : 

 

 

 

 

 

Comments

Popular Article

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

share button

Social

Social

Popular posts from this blog

جذبات اور عقل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاۓ؟ JAzbaat and Akal

فاتح قافلہ Fateh Kafla

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

How to Build Self-Confidence and Stay Calm During Public Speaking and Job Interviews

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

تحریر۔ محرومی یا نعمت | Mehroomi

تحریر۔ خوف Fear |Fear and Its Impact on Different Perspectives

سچائی کی تنہائی The loneliness of truth