فاتح قافلہ Fateh Kafla


 تحریر فاتح قافلہ

مصنف_وسیم_اکرم_گریوال

14 اگست 1947 کو محض ایک ملک آزاد نہیں ہوا۔ ایک ریاست معرضِ وجود میں نہیں آئی بلکہ ایک مشن کی بنیاد رکھی گئی جس مشن کے لیے کروڑوں مسلمان اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چل پڑے۔ جس مشن کی خاطر اٹھارہ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے جس مشن سے خوف زدہ کفار نے ستر ہزار مسلمان بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کیا۔

سفر لمبا ہو قافلہ رستے میں پڑاؤ ڈال کر آرام کرنے ٹھہر ہی جاتا ہے بس ہمارے قافلے کی تھکان شاید زیادہ تھی سستانے کی بجائے گہری نیند سو گیا۔
راہزن ہماری گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قافلے کو لوٹنے لگے۔



علماء، شعراء، صوفیوں، ادیبوں، معلموں، بزرگوں اور چند اہلِ علم حضرات نے ہمیں نیند سے جگانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ لیکن ہاں پہرے دار جاگتے رہے دن، رات، صبح و شام، گرمی اور سردی میں، حبس اور لو میں، اندھیری شب میں اور روشن سویرے میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
دشمن کے کیے وار اور اپنوں کی سازشوں کا سامنا کیا۔ کچھ پہرے داروں نے غداری کی کوشش بھی کی لیکن ربِ کائنات نے انہیں عبرت کا نشان بنا ڈالا۔ قافلے کی تھکان اور گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لٹیرے ان کے نام نہاد رہبر بن بیٹھے وہ ذاتی مفادات کی خاطر قافلے کی سالمیت کا سودا کرنے لگے۔ قافلہ پورے عالم میں بدنام ہوتا رہا۔ ہر وقت خطرناک درندے اس تعاقب میں رہتے کہ کب یہ قافلہ انتشار کا شکار ہو اور ہم اس کے باسیوں کی بوٹیاں نوچ لیں۔ انہیں ڈر تھا، تو اس قافلے کے محافظوں کا یا خوف تھا تو اس بات کا کہ کہیں قافلے کے باسی نیند سے جاگ نا جائیں۔ کیونکہ پورے عالم کے کفار کو اس بات کا ادراک تھا کہ جس دن یہ لوگ نیند سے جاگ گئے اور ان لوگوں نے کلمہِ حق بلند کر دیا اس دن قیصر و کسریٰ کی مانند ظالم طاقتیں اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور دورِ حاضر کے تمام سرِدارے اپنے تاج سَر سمیت کھو بیٹھیں گے۔


اسی لیے غداروں اور ایمان فروشوں کی مدد سے کفار اس قافلے کے باسیوں کو تھپکا تھپکا کر سلاتے رہتے۔
جب بھی قافلہ آگے بڑھنے لگتا تو بکاو اور نام نہاد رہبروں کے بھیس میں راہزن عیش، آرام پسندی، حق تلفی، اقربا پروری، زاتی مفادات اور دنیاوی سہولیات کے نرم دہ بستر بچھا کر تھپتھپا دیتے اور قافلے کے باسی پھر سے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے لگتے۔

                                                                                                                                        Videos
برسوں گزر گئے نادان سمجھ بیٹھے کہ شاید یہ لڑنا بھول گئے لیکن بھلا کیا شیر بھی کبھی شکار بھولا؟یا شاہین بھی کبھی پروان بھولا؟ ایک بار بھولے بسرے دو پرندے قافلے کی ہوائی حدود میں داخل ہونے کی غلطی کر بیٹھے پھر ان کے ساتھ جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔
خیر قافلہ بہت سو چُکا اب تھکان اُتر گئی۔ اب جب اس کے باسی جاگ جائیں گے غداروں کو پہچان جائیں گے اور اپنے مشن کو مکمل کرنے کے لیے نکل پڑیں گے تو ان کی للکار سے کفار کے بنائے ہوئے ظلم و جبر کے قلعے روئی کی طرح اُڑ جائیں گے۔


اور بالآخر وہ مشن تکمیل پائے گا جس کی نصرت *سب سے سچے سب اعلیٰ اور سب کے سردار، خاتم النبیین سرورِ کونین رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺ* نے دی۔ اور یہ قافلہ غزہِ ہند کا فاتح بنے گا۔
ان شاءاللہ

تحریر فاتح قافلہ


Comments

Post a Comment

Popular Article

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

,سوچ کا ایمان ,ذہن ساز | Zahan Saaz Article Think believe

share button

Social

Social

Popular posts from this blog

,سوچ کا ایمان ,ذہن ساز | Zahan Saaz Article Think believe

جذبات اور عقل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاۓ؟ JAzbaat and Akal

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

How to Build Self-Confidence and Stay Calm During Public Speaking and Job Interviews

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

تحریر۔ محرومی یا نعمت | Mehroomi

تحریر۔ خوف Fear |Fear and Its Impact on Different Perspectives

سچائی کی تنہائی The loneliness of truth