جذبات اور عقل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاۓ؟ JAzbaat and Akal
جذبات اور عقل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاۓ؟ کیونکہ ہمارے بہت سے کام اس وقت ہماری خواہش کے مطابق سرانجام پاتے ہیں جب ہم جذباتی ہوکر ان کو کرتے ہیں۔ لیکن عقلی اور اخلاقی طور پر وہ طریقہ درست نہیں ہوتا؟
جواب۔
فیصلہ سازی میں عقل اور جذبات میں توازن کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ فیصلہ سازی صرف عقلی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ جذبات میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں فیصلہ ہمیشہ عقلی، منطقی اور دوراندیشی کی بنیادوں پر کریں۔
جذبات کا استعمال اور عمل دخل فیصلے پر عملدرآمد کرتے وقت ہوتا ہے۔ تب بھی ہم محض جذبات پر انحصار نہیں کرسکتے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کرتے وقت عقل اور جذبات میں توازن قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا تنی ہوئی رسی پر چلتے وقت کوئی فرد کوشش کرتا ہے۔
کیونکہ اگر آپ کا جھکاؤ عقل اور منطق کی طرف زیادہ ہوا تو آپ دوسروں کے احسانات، قربانیوں، جذبات اور توقعات کو نظر انداز کر دیں گے۔ کیونکہ عقل اور منطق فیصلوں پر عملدرآمد کرتے وقت آپ کو حساب کتاب سے چلاتے ہیں تب احسانات، قربانیوں اور جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تب صرف اَجر، منافع اور مفادات ہی آپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پروفیشنلزم اور کاروباری معاملات میں زیادہ تر فیصلوں پر عمل کرنے میں عقلی اور منطق کا استعمال سودمند ثابت ہوتا ہے۔
اس کے برعکس خاندان، رشتوں، دوستوں اور عزیزوں کے معاملات میں لیے گئے فیصلے پر عمل جذباتی ہوکر ہی کیا جائے تو بہتر رہتا ہے کیونکہ رشتوں میں پیار ہوتاہے، قربانیاں ہوتی ہیں، احساسات ہوتے ہیں اور جذبات ہوتے ہیں انکی کیلکولیشن عقل اور منطق نہیں کرسکتے۔
بڑے بھائی اور باپ کی کڑوی کسیلی باتوں پر سر کیوں جھکانا ہے؟
بہنوں کی اولادوں کی شادیوں میں مالی معاونت کیوں کرنی ہے؟
ضرورت پڑنے پر دوست پر آئی مصیبت خود پر کیوں لینی ہے؟
اپنے حصے کا لقمہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو کیوں دینا ہے؟
خود بھوکے پیاس برداشت کرکے دوسرے کے گھر میں رزق کیونکہ پہنچانا ہے؟
ایسے بہت سے سوالات کے جوابات آپ کو عقل اور منطق سے نہیں ملیں گے تب جذبات اور احساسات ہی آپ کو
منزل تک پہنچائیں گے۔
Writer , Waseem Akram Grewal
Upload by REHMAN2211

Comments
Post a Comment