تحریر۔ محرومی یا نعمت | Mehroomi

 

تحریر۔ محرومی یا نعمت

مصنف۔ وسیم اکرم گریوال ماہرِ نفسیات


انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ اپنے سے اوپر دیکھنے لگتا ہے کہ تو احساسِ محرومی اور منفی سوچیں اسے گھیر لیتی ہیں۔ اگر آپ اپنے ماضی اور اپنے سے نچلے طبقے کے حالات کا جائزہ لیں گے تو آپ کا رویہ شکرانہ ہوجائے گا اور آپ کی خوداعتمادی اور رب العالمین کی شکر گزاری اپنے عروج کو پہنچ جائے گی۔
لیکن جب اپنے سے اوپر اور آنے والے وقت کی منصوبہ بندیوں کا جائزہ لینے لگیں تو منفی سوچوں کی بارش کے بدلے احساسِ محرومی اور ناشکری کی کیفیات غالب آجاتی ہیں۔

Zahansaaz






آج ہم ان تمام پہلوؤں کا طائرانہ جائزہ لیں گے جو ہمیں احساسِ محرومی اور مایوسی کی طرف لیکر جاتے ہیں لیکن درحقیقت ان میں ہماری بھلائی اور بہتری چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ سب محرومیوں کا تزکرہ کرنا تو ممکن نہیں ہم ان نکتے کی تفصیل کو سمجھنے کے لیے چند محرومیوں اور ان میں چھی ہوئی بہتریوں اور بھلائیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

محرومی نمبر 1۔

زر اور زمین کی محرومی


آپ جب کسی ایسے فرد کے بارے میں سوچتے ہوں گے جس کے پاس مال و متاع کے انبار ہیں۔ اور جو وسیع پیمانے پر زمینوں اور پراپرٹی کا مالک ہے تو آپ کے دل میں ضرور خیال آتا ہوگا کہ زندگی تو اس فرد کی ہے مزے اور سکون سے زندگی بسر کررہا ہے۔ آپ ان سب سے محروم ہو اور آپ کی زندگی تو بہت مشکل میں ہے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن اس تصویر کا اگر دوسرا رُخ دیکھیں تو وہ بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ مال و متاع کیساتھ انسان کا لالچ اور ہوس بھی بڑہ جاتا ہے عدالتی نظام پر ہونے والی تحقیق سے ایک بہیانک حقیقت سامنے آئی ہے کہ سگے بھائیوں اور قریبی رشتوں میں قتل کے مقدمات کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سگے بھائیوں اور قریبی رشتوں کو قتل کرنے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ زر اور زمین کے جھگڑے ہیں۔
سوچیں اگر آج آپ زمینوں اور پراپرٹیوں کے مالک نہیں لیکن آپ کی جان کو سگے بھائی اور بھتیجوں سے خطرہ بھی لاحق نہیں۔
آج آپ لوگ سکون اور محبت سے اکٹھے زندگی گزار رہے ہیں دکھ سکھ میں ایک ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ اگر مال و زر کی کثرت ہوتی تو ان سب سے محروم ہوتے۔ کتنے مالدار لوگ ہیں جو ساری زندگی مال و متاع اکٹھا کرتے اور پھر اسے اپنوں سے بچا کر رکھتے ہی اپنے سگوں کی حوس اور حسد کا نشانہ بن گئے۔ وہ پوری عمر رشتوں کی اصل لذت سے بھی نا آشنا رہے اور مال و زر بھی ادھر ہی چھوڑ گئے۔ یقین مانیں زر اور زمین کی عدم دستیابی محرومی نہیں نعمت ہے۔

محرومی نمبر 2۔

لذیذ اور مہنگے کھانوں کی عدم دستیابی


ہم میں سے کئی جن کی آمدن محدود ہے ان کوکھانا کھاتے وقت اسی پر گزارا کرنا پڑتا ہے جو گھر میں دستیاب ہے یا روٹین میں سالن پکا ہے۔
لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کی آمدن زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس بہت سی آبشنز موجود ہوتی ہیں۔ ان کو سالن پسند نا آئے تو وہ فوراً ایک فون کال کے ذریعے اپنا پسندیدہ کھانا یا لذیذ فاسٹ فوڈ آڈر کر لیتے ہیں یا کسی اچھے ریسٹورنٹ پر من پسند چیز کھانے پنہچ جاتے ہیں۔ ان کا طرزِ زندگی دیکھ کر ہمارے دل میں بدگمانیاں اور محرومیاں جنم لیتی ہیں کہ زندگی تو اس کی ہے جب چاہے جو چاہے کھائے ہمیں تو دستیاب کھانے پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے وہ ہمیں پسند ہو یا نا

۔
اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارا جسم ایک گاڑی کی مانند ہے جس کی تندرستی کے لیے کئی لوازمات مناسب مقدار میں چاہیے ہوتے ہیں بصورت دیگر اس میں نقص اور بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ تندرست اور توانا جسم کو کاربو ہائیڈریٹس کے ساتھ ساتھ منرلز، وٹامنز اور پروٹیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے یہ تمام اجزاء مختلف انواع کی اشیائے خورد و نوش میں موجود ہوتی ہے جس کے لیے روٹی، چاول، دالیں، سبزیاں، گوشت، مچھلی اور پھلوں کا متوازن استعمال کریں گے تو ہی تمام ضروری لوازمات پورے ہوں گے اور ہمارے جسم کی گاڑی سہی طریقے سے چل پائے گی۔ اوپر بیان کی گئی اشیاء میں سے چند کا ہی ذائقہ ہمیں پسند ہوتا ہے اکثر ہمیں لذیذ نہیں لگتیں۔ لیکن محدود آمدن کی وجہ سے جب کسی کے پاس باہر سے کھانا آرڈر کرنے کا اختیار نہیں ہوتا تو جو گھر میں میسر ہو وہ پسند ناہونے کے باوجود اسے کھانا پڑتا ہے جس سے اس کے جسم کو متوازن غذا ملتی رہتی ہے اور وہ کئی طرح کے جسمانی نقائص اور بیماریاں سے محفوظ رہتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جو صاحبِ استطاعت ہوں مال و دولت کی فراوانی ہو وہ اپنی نفس اور زبان کی لذت کے غلام ہوتے ہیں وہ دالوں

 اور سبزیوں سے ملنے والے ضروری اجزاء سے محروم ہو جاتے ہیں وہ ہمیں ایک جیسے ہی کھانے اور فاسٹ کھاتے رہتے ہیں جس سے ان کو چند منٹ کی لذت تو ضرور حاصل ہوتی ہے لیکن جسم کے لیے ضروری اجزاء کی مستقل کمی آنا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی اور ذہنی امراض جنم لیتے ہیں۔
اس کا مطلب اگر آپ محدود آمدن کی وجہ سے آئے دن من پسند کھانے کھانے سے محروم ہیں تو یہ محرومی نہیں بلکہ بہت بڑی نعمت ہے کہ آپ کو متوازن غذا مل رہی ہے۔

محرومی نمبر 3۔

گاڑی کی عدم دستیابی کی محرومی


میرا خود کا شمار ان لوگوں میں تھا کہ جس پاس جب گاڑی نہیں تھی تو پیدل زیادہ چلتا پڑتا تھا یا سائیکل پر سواری کرتا تھا تو احساسِ محرومی کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی۔
میں سوچتا تھا کہ سائیکل چلانے سے جان چھوٹ جائے تو میری زندگی آسان ہو جائے۔
آج بھی کئی لوگ بڑی سواری کی عدم دستیابی کو اپنی محرومی سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا احساس ان کو تب ہوگا سواری آنے سے زندگی آسان ہونے کے بجائے مشکل بھی ہوجائے گی۔ اگر آج آپ سائیکل پر سفر کرتے ہیں اور انرجی اور وقت بچانے کیلئے گاڑی لے لیتے ہیں تو یقین مانیں جب گاڑی آجائے گی تو یہی بچا ہوا وقت اور انرجی چند سالوں بعد کسی جم میں صَرف کرو گے جب وزن بڑھانا شروع ہوجائے گا اور اس کے ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر کی بیماریاں آپ پر قابض آجائیں گی
۔
اگر آج آپ مجبوری سے سائیکل چلا رہے ہیں تو مبارک ہو آپ موٹاپے، شوگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی طویل فہرست سے بھی باہر ہیں جو ہر سال ایکسیڈنٹ کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں یا ہمیشہ کیلئے معذور ہوجاتے ہیں۔ اس لیے سائیکل چلانے کو پریشانی مت سمجھیں بلکہ بہت سی پریشانیوں سے نجات کا باعث ہے۔

اگر مزید بیان کرنا چاہوں تو یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نا ہو کیونکہ ہمیں نظر آنے والے ہر منفی چیز میں کوئی مثبت پہلو ضرور چھپا ہوتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا وہ ہمیں محرومی اور محکومیوں میں جھونکے گا۔ منفی سوچوں کے غالب آنے سے ہماری آنکھوں پر مایوسی اور محرومی کی پٹی بندھ جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس کے مثبت پہلو نظر نہیں آتے اور محرومیوں میں ہماری زندگی مشکلات اور ناشکری میں گزرتی ہے۔

اگر ہم آنکھوں سے منفی سوچوں اور بدگمانیوں کی پٹی اتار دیں تو ہماری زندگی ہمیں بہت خوبصورت نظر آئے اور ہم ہر وقت ہر لمحہ شکرگزاری اور خوشی سے گزاریں۔

Comments

Popular Article

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

,سوچ کا ایمان ,ذہن ساز | Zahan Saaz Article Think believe

share button

Social

Social

Popular posts from this blog

,سوچ کا ایمان ,ذہن ساز | Zahan Saaz Article Think believe

جذبات اور عقل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاۓ؟ JAzbaat and Akal

فاتح قافلہ Fateh Kafla

The 7 Habits of Highly Effective People | Zahan Saaz | Motivational

How to Build Self-Confidence and Stay Calm During Public Speaking and Job Interviews

قسمت کیا ہے, اور ہماری زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟| Zahan Saaz

تحریر۔ خوف Fear |Fear and Its Impact on Different Perspectives

سچائی کی تنہائی The loneliness of truth