تحریر۔ خوف Fear |Fear and Its Impact on Different Perspectives
تحریر۔ خوف
مصنف۔ وسیم اکرم گریوال
خوف کو لیکر مختلف لوگوں کے
مختلف نظریات ہیں۔ کوئی اس کے حق میں دلائل دیتا دکھائی دیتا ہے تو کوئی اس کے
نقصانات بیان کرتا نظر آتا ہے۔
خوف کا تعلق صرف خدا سے ہو تو
خوف کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ خوفِ خدا ہی وہ واحد مقناطیسی طاقت
ہے جو زندگی کی گاڑی کو ہدایت اور حق کی پٹری سے نہیں اترنے دیتی۔
اگر انسان خوشی کے موقع پر
یادِ خدا اور طیش کے موقع پر خوفِ خدا سے محروم ہو جائے تو اسے زندگی کی طغیانی
گمراہی اور تباہی کے سمندر میں جا گراتی ہے۔
خوفِ خدا جتنا بڑھتا چلا جاتا
ہے انسان حقیقی معنوں میں اتنا ہی بے خوف اور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
لیکن اگر ہم خوف کو اللّٰہ
تعالیٰ کے معملات سے ہٹ کر اپنی زندگی میں اثرانداز ہونے دیں تو اس کے ہر صورت
نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میرے لاشعور میں سے بہت سے
سوالات آئے دن میرے شعور کی کھڑکیوں پر دستک دیتے تھے لیکن ان کے جوابات تلاش کرنے
میں میں ہربار ناکام رہتا۔ جیسے میں سوچتا کہ۔۔۔۔
انسان ظلم کیوں کرتا ہے؟
ہم اپنوں سے دغا بازی اور بے
وفائی کیوں کرتے ہیں؟
ہم سب کچھ جاننے کے باوجود خود
غرض کیوں ہوجاتے ہیں؟
ہم دعائیں اور نیکیاں اکٹھی
کرنے کی بجائے مال و زر سمیٹنے میں کیوں لگے رہتے ہیں؟
ہم آج کے لطف سے بے خبر کل کی
فکر میں کیوں لگے رہتے ہیں؟
ہم رشتوں سے زیادہ چیزوں کے
پیچھے کیوں بھاگتے ہیں؟
ہم محبت کی بجائے نفرت کیوں
پالتے ہیں؟
ہم سچ کی جگہ جھوٹ کو کیوں
دیتے ہیں؟
ہم برکت کی بجائے کثرت کے کیوں
قائل ہیں؟
ان تمام سوالات کے جواب کے متلاشی میری سوچ کے گھوڑے ہر بار ایک ہی غار کے سامنے آکر رُکتے جِس کے اندر ہر بار خوف کا بسیرا ہوتا۔
انسان فطری طور پر بہت نفیس
اور عمدہ تخلیق ہے۔ آپ خود سوچیں جو تخلیق کار اتنا عظیم ہے اس کے تخلیقی کردہ
بندے میں کوئی عیب بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔
انسان پیدائشی پر حسد، کینہ،
جھوٹ، فریب، دغابازی، نفرت، لالچ، خود غرضی اور مفاد پرستی سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جو
خوف خدا سے محبت کرنے کے لیے اسے ملا تھا اسے وہ لوگوں اور چیزوں سے جوڑنے لگا اور
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا انسان محبت، خلوص، عقیدت، وفا، وابستگی، بندگی،
اطاعت، قبولیت، قربانی اور چاہت کی لذت سے محروم ہو گیا۔
انسان خوف میں دہتا ہے ۔۔۔۔۔
انسان خوف میں رہتا ہے کہ اسے
کوئی خوف زدہ نا کر سکے۔
انسان کو مفلس ہونے کا خوف
رہتا ہے اس لیے حرام کماتا ہے۔
اکیلے رہ جانے کا خوف ہے جس کی
وجہ سے خود سب کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔
مظلوم بننے کا خوف ہے اس لیے
خود ظلم کرتا ہے۔
اختیار چلے جانے کا خوف ہے اس
لیے کئی لوگوں سے رزق چھین لیتا ہے۔
وابستگی کا خوف ہے اس لیے ںے
وفائی کرتا ہے۔
شہرت چلی جانے کا خوف ہے اس
لیے دوسروں کی رسوائی کی وجہ بنتا ہے۔
برے وقت کا خوف ہے اس لیے آج
ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔
اولاد کے بگڑ جانے کا خوف ہے
اس لیے مال و متاع کو اولاد سے زیادہ محبت کرتا ہے۔
قصہ مختصر نااعوذ اللّٰہ انسان
کو اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر شک ہے اس لیے وہ لوگوں اور چیزوں سے خوف زدہ ہوتا ہے۔
انسان کے دل سے چیزوں اور
لوگوں کا خوف نکل جائے تو وہ ولی اللہ کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔
خوف انسان کو خوف زدہ کرکے اسے
اس کے خالق سے دور رکھتا ہے۔آج حوصلہ کرکے خوف کا سامنا
کرنا سیکھیں دیکھنا پھر کیسے آپ دوسروں کے بے لوث کام آتے اور خود کو ہلکا اور
مضبوط
محسوس کرتے۔
Fear and Its Impact on Different Perspectives
Fear is a powerful emotion that elicits diverse reactions from people. Some view fear as a sign of vulnerability, while others perceive it as a means to protect themselves. The connection between fear and God is a profound one, as the fear of God is a source of guidance and righteousness that surpasses any human-made code.
When an individual embraces the fear of God in moments of joy and heedlessness, they are shielded from the dangers of life's treacherous paths. As the fear of God grows stronger within, a person becomes fearless and resilient in the truest sense.
However, when fear is detached from its divine essence and influences one's daily life, it brings about several detrimental consequences. Many unanswered questions regarding human behavior and actions arise, leaving the mind restless and unsatisfied.
Consider the following questions:
Why do humans engage in acts of oppression?
Why do we betray and disloyal to our loved ones?
Despite possessing knowledge, why do we become selfish and self-centered?
Instead of collecting prayers and good deeds, why do we chase after wealth and possessions?
Why do we worry about the unknown future while neglecting the present moment?
Why do we prioritize material possessions over relationships?
Why do we nurture hatred over love?
Why do we prefer falsehood over truth?
Why do we desire quantity over blessings?
Finding answers to these questions is a challenging task. Every time I attempt to do so, the door of my consciousness gets tapped, yet the answer to all lies within the domain of fear.
Human beings are an exquisite creation. Reflect upon the Creator, who is so grand, and envision how a creation could harbor flaws. Fear, unfortunately, leads individuals to detach from the fear of God and connect with the world and its beings. Consequently, they become deprived of the joys of true love, loyalty, faith, devotion, obedience, acceptance, and sacrifice.
The solution lies in embracing the fear of God, for it elevates one's existence beyond the fears of this world. As you build the courage to face your fears, observe how others' impurities become useful tools while you find yourself both light and strong.


Comments
Post a Comment