فاتح قافلہ Fateh Kafla
مصنف_وسیم_اکرم_گریوال
سفر لمبا ہو قافلہ رستے میں پڑاؤ ڈال کر آرام کرنے ٹھہر ہی جاتا ہے بس ہمارے قافلے کی تھکان شاید زیادہ تھی سستانے کی بجائے گہری نیند سو گیا۔
راہزن ہماری گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قافلے کو لوٹنے لگے۔
علماء، شعراء، صوفیوں، ادیبوں، معلموں، بزرگوں اور چند اہلِ علم حضرات نے ہمیں نیند سے جگانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ لیکن ہاں پہرے دار جاگتے رہے دن، رات، صبح و شام، گرمی اور سردی میں، حبس اور لو میں، اندھیری شب میں اور روشن سویرے میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
دشمن کے کیے وار اور اپنوں کی سازشوں کا سامنا کیا۔ کچھ پہرے داروں نے غداری کی کوشش بھی کی لیکن ربِ کائنات نے انہیں عبرت کا نشان بنا ڈالا۔ قافلے کی تھکان اور گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لٹیرے ان کے نام نہاد رہبر بن بیٹھے وہ ذاتی مفادات کی خاطر قافلے کی سالمیت کا سودا کرنے لگے۔ قافلہ پورے عالم میں بدنام ہوتا رہا۔ ہر وقت خطرناک درندے اس تعاقب میں رہتے کہ کب یہ قافلہ انتشار کا شکار ہو اور ہم اس کے باسیوں کی بوٹیاں نوچ لیں۔ انہیں ڈر تھا، تو اس قافلے کے محافظوں کا یا خوف تھا تو اس بات کا کہ کہیں قافلے کے باسی نیند سے جاگ نا جائیں۔ کیونکہ پورے عالم کے کفار کو اس بات کا ادراک تھا کہ جس دن یہ لوگ نیند سے جاگ گئے اور ان لوگوں نے کلمہِ حق بلند کر دیا اس دن قیصر و کسریٰ کی مانند ظالم طاقتیں اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور دورِ حاضر کے تمام سرِدارے اپنے تاج سَر سمیت کھو بیٹھیں گے۔
اسی لیے غداروں اور ایمان فروشوں کی مدد سے کفار اس قافلے کے باسیوں کو تھپکا تھپکا کر سلاتے رہتے۔
جب بھی قافلہ آگے بڑھنے لگتا تو بکاو اور نام نہاد رہبروں کے بھیس میں راہزن عیش، آرام پسندی، حق تلفی، اقربا پروری، زاتی مفادات اور دنیاوی سہولیات کے نرم دہ بستر بچھا کر تھپتھپا دیتے اور قافلے کے باسی پھر سے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے لگتے۔
Videos
برسوں گزر گئے نادان سمجھ بیٹھے کہ شاید یہ لڑنا بھول گئے لیکن بھلا کیا شیر بھی کبھی شکار بھولا؟یا شاہین بھی کبھی پروان بھولا؟ ایک بار بھولے بسرے دو پرندے قافلے کی ہوائی حدود میں داخل ہونے کی غلطی کر بیٹھے پھر ان کے ساتھ جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔
خیر قافلہ بہت سو چُکا اب تھکان اُتر گئی۔ اب جب اس کے باسی جاگ جائیں گے غداروں کو پہچان جائیں گے اور اپنے مشن کو مکمل کرنے کے لیے نکل پڑیں گے تو ان کی للکار سے کفار کے بنائے ہوئے ظلم و جبر کے قلعے روئی کی طرح اُڑ جائیں گے۔
اور بالآخر وہ مشن تکمیل پائے گا جس کی نصرت *سب سے سچے سب اعلیٰ اور سب کے سردار، خاتم النبیین سرورِ کونین رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺ* نے دی۔ اور یہ قافلہ غزہِ ہند کا فاتح بنے گا۔
ان شاءاللہ



👍
ReplyDelete