Atomic Habits. | James Clear Book Summary
Atomic Habits.
مصنف:
James Clear
سمــــری رائیٹـــروســــیم اکــــرم گــــریـــــوال
برٹش سائیکلنگ ٹیم (ٹیم سکائی) کی حالت
بہت خراب تھی۔ 1998 سے 2003 تک بَس ایک گولڈ میڈل جیت پائی تھی۔
نوبت یہاں تک آ پنہچی کہ یورپ کی سائیکل
ساز کمپنی نے ٹیم سکائی کو سائیکل دینے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ اس سے
انکی کمپنی کی ساخت متاثر ہوتی ہے۔
برٹش سائیکلنگ آرگنائزیشن نے
Dave Brailsford کا ٹیم کے کوچ کے طور پر انتخاب کیا۔
Dave Brailsford کا شمار ان چند
لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی قسمت خود بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔
وہ ایک منفرد تھیوری کے تحت کام کرتا
اس تھیوری کو دنیا
The Aggregation of Marginal Gain
کے نام سے جانتی ہے۔
جس کے مطابق اگر ہم چھوٹے چھوٹے کاموں
میں صرف 1٪ بہتری کر دیں تو یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملکر شاندار نتائج دے سکتے ہیں۔
کوچ Dave Brailsford نے اسی اصول کے
تحت ٹیم سکائی کی ہر چھوئی چیز میں 1 فیصد سے بہتری کر دی۔
مثلاً اس نے کھلاڑیوں کی تمام بائیسکلز
کی سیٹس نرم اور آرام دہ میٹیریل سے تیار کروائیں۔
کھلاڑیوں کے لیے آرام دہ ڈریس بنوائیں۔
بائیسکلز کے ٹائروں کو الکوحل سے رگڑا
تا کہ اس کے روڑ گرپ مضبوط ہو۔
حتی کہ اس نے کھلاڑیوں کے بستر تک کی
کوالٹی کو بہتر کردیا۔
Dave Brailsford نے کھلاڑیوں کی
آنکھوں کی ادویات سے لیکر سائیکل کی چین کے آئل تک سب میں 1 فیصد بہتری کر دی۔
ان سب کا نتیجہ اس کو 2008 کے اولمپکس
میں ملا جو بیجنگ میں منعقد ہوئی۔
جس میں 60 فیصد گولڈ میڈلز اس کی ٹیم
کو ملے_
اگلے اولمپکس لندن میں منعقد ہوئے جس میں
اس کی ٹیم نے 9 اولمپکس اور 7 ورلڈ ریکارڈ قائم کیے۔
اس کے 1 فیصد بہتری کے فارمولے نے صرف
10 سالوں میں ناکام ترین ٹیم کو اس قابل بنایا کہ وہ 66 گولڈ میڈلز، 178 ورلڈ چیمپئنز
اور 5 Tour De France ریس ٹورنامنٹ
اپنے نام کر پائی۔
مصنف کہتا ہے کامیاب ہونے کے لیے گول کی بجائے سسٹم بنائیں۔
کیونکہ گولز کا تعلق نتائج کے ساتھ ہے اور سسٹم پروسس کے وابستہ ہے
مثلاً اگر کوئی طالب-علم سالانہ امتحانات میں 98 فیصد مارکس حاصل کرنا چاہتا ہے تو 98 فیصد نمبر اسکا گول جبکہ وہ اس کے لیے روزانہ مطالعہ کرے یہ پراسیس ہے
Winner and Loser دونوں کے گول ایک جیسے ہوتے ہیں
فرق سسٹم کا ہوتا ہے جسے
follow کر کے ایک ونر بنتا ہے۔
جیسے کوئی بڑا جسم چھوٹے چھوٹے ایٹمز سے ملکر بنتا ہے ایسے ہی کامیابی اور شاندار نتائج چھوٹی چھوٹی عادات سے حاصل ہوتے ہیں ۔
ہماری عادات 4 مراحل سے سے بنتی ہیں۔
1. CUE
2. CRAVING
3. RESPONSE
4. REWARD
میں آپ کو یہ پروسیس ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
آج کے دور میں ہر شخص موبائل-فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کا عادی ہوا پڑا ہے۔
یہ عادت ہمیں اوپر والے پروسیس کے چار
مراحل سے ہی پڑتی ہے۔
1. آپ کے فون کی گھنٹی بجتی ہے
یہ CUE ہے
2. آپ میسج یا نوٹیفکیشن پڑہنا چاہتے ہیں
یہ CRAVING یے
3. آپ میسج یا نوٹیفکیشن کو دیکھتے اور پڑھتے ہیں
یہ RESPONSE ہے
4. آپ کو میسج پڑھ کر اچھا لگتا ہے
یہ REWARD ہے
جتنی بار یہ مراحل دہرائے جائیں گے عادات اتنی ہی پختہ ہوتی جائیں گی۔
ہم کوئی بُری عادت ترک کرنا چاہیں یا کوئی نئی عادت بنانا چاہیں تو بھی انہی مراحل کی مدد لی جا سکتی ہے۔
اگر آپ کوئی بُری عادت ترک کرنا چاہتے ہیں تو
1. CUE
کو پوشیدہ کردیں
2. CRAVING
کو ناخوشگوار بنا دیں۔
کو مشکل کر دیں۔
کو غیر تسلی بخش بنا دیں۔
ابھی میں یہ مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
1. CUE
آپ کے فون کی گھنٹی کا بجنا
cue ہے تو آپ فون استعمال کی عادت ترک کرنا ہو تو
کام کرتے وقت فون کو دور یا گھنٹی بند کر کے الماری میں رکھ دیں تو آپ کا
cue پوشیدہ ہوجائے گا۔
2. CRAVING
کو ناخوشگوار بنانے کے لیے آپ اپنے
موبائل فون سے غیر ضروری ایپلیکیشنز مثلاً ٹِک ٹاک سنیپ چیٹ وغیرہ اور گیمز وغیرہ
اَن اِنسٹال کردیں۔
پھر آپ کے فون میں دلچسپی کم ہو جائے گی
جس سے CRAVING بھی نہیں رہے گی۔
کو مشکل بنا دیں مثلاً آپ اپنے فون کا
Face Lock اور بائیو میٹرک Lock ختم کرکے مشکل اور لمبا کئی ہندسوں پر مشتمل
Pasword لاک لگا دیں۔
جسے اَن کاک کرنا آپکو مشکل ہو گا تو
بار بار اَن لاک کرکے میسج اور نوٹیفکیشن پڑھنا بھی مشکل لگے گا۔
جب اتنی مشکل سے اتنا بڑا
pasword لگا کر موبائل فون کو ان لاک کرنے کے
بعد بھی ہربار میسج اور نوٹیفکیشن مزے کا نہیـــں ملے گا تو آپ کے لیے
reward خوشگوار نہیں رہے گا اور ایسے آہستہ
آہستہ آپکی عادت ترک ہوتی جائے گی۔
2. CRAVING / ATTRACTIVE پرکشش
3. RESPONSE / EASY آسان
4. REWARD / SATISFACTORY تسلی
بخش
2. THE MANY
3. THE POWERFUL
یعنی اسکو ہم ایسے سمجھ سکتے ہیں
1. THE CLOSE
جو عادات ہمارے قریب کے لوگوں کی ہوتی
ہیں وہ جلد ہماری بھی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں
2. THE MANY
زیادہ تر لوگ جو کام کررہے ہوتے وہ
ہماری عادت بن جاتے ہیں سوشل میڈیا ٹرینڈ اسکی مثال ہے۔
پاور فُل لوگ مشہور لوگ جو کام اور
عادات اپناتے ہیں ہم انکو جلدی اپنا لیتے ہیں۔
مصنف لکھتا ہے کہ
عـــادات کو دو طرح ســـے تبــدیـــل
کـــیا جاسکتا ہے
1. OUTCOME BASED
2. IDENTITY BASED
مثـــال کے طور پر دو لـــوگ سگریـــٹ نوشــی کی عادت کو ترک کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کوئی سگریٹ کا پوچھے گا تو
پہلی قسم کا شخص جو
outcome based ہوگا اس کا جواب ہوگا نہیں میں سگریٹ
نوشی چھوڑ رہاہوں
اپنی عادات بدلنے کے لئیے اپنی پہچان بدلیں
Get Out of Your Comfortable Zone
یہ کیسے ممکن ہے اس کا جواب آج کی منتخب کتاب Atomic Habits میں دیا گیا ہے۔
جسے "The Goldilocks Zone کے نام سے جانا گیا۔
ہمارے دماغ کو چیلنجز پسند ہیں لیکن وہ
صرف ان چیلنجز کو پسند کرتا ہے جو اسکی Difficulty Level کے
اندر ہوں۔
مثلاً آپکو ٹینس کھیلنے کا شوق ہے تو
اگر آپ 10 سال کے بچے سے کھیلنا شروع کر دیں گے تو بھی آپ زیادہ دیر نہیں کھیل سکیں
گے لیکن اگر آپ کسی انٹرنیشنل کھلاڑی کے ساتھ کھلیں گے تو بھی جلد میدان چھوڑ دیں
گےـ اس کا بہتر حـــل یہ ہوگا کہ آپ اپنے سے اچھے کھلاڑی کیساتھ کھیلیں لیکن بہت
اچھے کھلاڑی سے نہیں۔
زندگی میں بھی نئی اور اچھی عادات اپنانا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو آرام کے دائرے سے باہر آنا پڑے گا لیکن شروع میں بہت زیادہ مشقت دینے سے بھی بدمزگی پیدا ہو گی۔
مثلاً آپ صبح کے وقت ورزش کی عادت کو
اپنانا چاہتے ہیں تو اگر عام روٹین میں پارک یا گراونڈ کے دو چکر لگاتے ہیں تو 3
کر دیں بجائے 5، 7 چکر ایک بار لگا کر دوبارہ رخ ہی ناکریں
عادات کی تشکیل اور تبدیلی پر لکھی گئی یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے اس لیے میری سمری بھی تھوڑی طویل ہوگئی
میں آپ سب کو ایک بار یہ کتاب پڑھنے کی
تجویز ضرور کروں گا
آپ یہ کتاب لازمی پڑھیں اور مجھے دعاؤں
میں یاد رکھیے گا۔

Comments